مدبر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - عقل مند؛ زیرک، صاحب تدبر، دانش ور۔ "اگر سیاسی مدبر اور رہنما ان کمزوریوں سے کنارہ کشی اختیار کر لے تو بھی اس کی مقبولیت اور نیک نامی میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔"      ( ١٩٩١ء، صحیفہ، لاہور، جنوری، جون، ٨٤ ) ٢ - امور سلطنت میں مہارت رکھنے والا، مشیر، صلاح کار۔ "اس زمانہ میں مشہور و نامور مدبر سہ سالار جنگ اول دولت آصفیہ کے مدارالمہام تھے۔"      ( ١٩٢٥ء، وقار حیات، ١٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت فاعلی' ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٤٨ء کو "تاریخ ممالک چین" کے ترجمہ میں تحریراً مستعمل ہوا۔

مثالیں

١ - عقل مند؛ زیرک، صاحب تدبر، دانش ور۔ "اگر سیاسی مدبر اور رہنما ان کمزوریوں سے کنارہ کشی اختیار کر لے تو بھی اس کی مقبولیت اور نیک نامی میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔"      ( ١٩٩١ء، صحیفہ، لاہور، جنوری، جون، ٨٤ ) ٢ - امور سلطنت میں مہارت رکھنے والا، مشیر، صلاح کار۔ "اس زمانہ میں مشہور و نامور مدبر سہ سالار جنگ اول دولت آصفیہ کے مدارالمہام تھے۔"      ( ١٩٢٥ء، وقار حیات، ١٥ )

اصل لفظ: دبر