مدہوش
معنی
١ - دہشت زدہ، خوف زدہ۔ (نوراللغات) ٢ - ہکابکا، بھوچکّا، حیران، سرگشتر، متحیر۔ "پروفیر لینہ کہتا ہے" وہ خدائے اکبر جو ازلی ہے. میرے سامنے اس طرح جلوہ گر ہوتا ہے کہ میں مبہوت اور مدہوش ہو جاتا ہوں" ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٥٧:٢ ) ٣ - [ مجازا ] بے ہوش، بے سدھ، متوالا، بدمست، مخمور، سرشار۔ "دن بھر وہ باپ کی. وسیع اور شفیق گود میں کھیلتی کودتی اور رات کو نیندوں کی مدہوش دنیا میں کھو جاتی" ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں (بھارت)، ٤٢١:٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٦٤ء کو "پرت نامہ (اردو ادب، ١٩٥٧ء)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - ہکابکا، بھوچکّا، حیران، سرگشتر، متحیر۔ "پروفیر لینہ کہتا ہے" وہ خدائے اکبر جو ازلی ہے. میرے سامنے اس طرح جلوہ گر ہوتا ہے کہ میں مبہوت اور مدہوش ہو جاتا ہوں" ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٥٧:٢ ) ٣ - [ مجازا ] بے ہوش، بے سدھ، متوالا، بدمست، مخمور، سرشار۔ "دن بھر وہ باپ کی. وسیع اور شفیق گود میں کھیلتی کودتی اور رات کو نیندوں کی مدہوش دنیا میں کھو جاتی" ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں (بھارت)، ٤٢١:٢ )