مدیر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - گھمانے والا؛ (مجازًا) دائرے دار، چکر والا۔ "اندلس میں ایک نئی طرزِ عمارت پیدا ہوئی جسے مدیر کہتے ہیں اور یہ طرز مدت دراز تک باقی رہی"      ( ١٨٩٧ء، تمدن عرب، ٢٦٦۔ ) ١ - کسی ادارے کا مہتمم، نگراں، منیجر۔ "مدیر کارخانہ ہر چیز کا ملاحظہ کراتے تھے، تمام کلیں اپنے کام میں سرگرم تھیں"    ( ١٨٩٩ء، شہنشاہ جرمنی کا سفر، قسطنطنیہ، ٢٠۔ ) ٢ - کسی صوبے کا حاکم، گورنر (اسٹین گاس؛ جامع اللغات) ٣ - اخبار یا رسالے وغیرہ کا ایڈیٹر۔ "رسالے کی عمر اس کے مدیر کی عمر کے عشر عشیر بھی نہیں ہوتی"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری: حیات و خدمات، ٥٦٨:٢۔ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٩٧ء کو "تمدن عرب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھمانے والا؛ (مجازًا) دائرے دار، چکر والا۔ "اندلس میں ایک نئی طرزِ عمارت پیدا ہوئی جسے مدیر کہتے ہیں اور یہ طرز مدت دراز تک باقی رہی"      ( ١٨٩٧ء، تمدن عرب، ٢٦٦۔ ) ١ - کسی ادارے کا مہتمم، نگراں، منیجر۔ "مدیر کارخانہ ہر چیز کا ملاحظہ کراتے تھے، تمام کلیں اپنے کام میں سرگرم تھیں"    ( ١٨٩٩ء، شہنشاہ جرمنی کا سفر، قسطنطنیہ، ٢٠۔ ) ٣ - اخبار یا رسالے وغیرہ کا ایڈیٹر۔ "رسالے کی عمر اس کے مدیر کی عمر کے عشر عشیر بھی نہیں ہوتی"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری: حیات و خدمات، ٥٦٨:٢۔ )

اصل لفظ: دور