مذہب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (لفظاً) گزرنا، جانے کی جگہ؛ (مجازاً) راستہ، راہ (کسی شخص یا گروہ کا) مسلک، آئین، طریق۔ "اس دور میں لوگوں نے ابوالحسن الاشعری کا مذہب اپنا لیا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٩٠:٣ ) ٢ - عقیدہ، دین، دھرم۔ "آپ کسی بھی مذہب کے مسلک سے متعلق ہوں پاکستان کی ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔"      ( ١٩٩٣ء، اردونامہ، لاہور، جولائی، ٢٠ ) ٣ - کیش، مشرب، مت۔  مشرب وفا شعاری مذہب ہے حق گزاری      ( ١٩٢٦ء، طلیعہ، ١٣ ) ٤ - رائے، نظریہ۔ "ابن رشد کہتا ہے کہ یہ مذہب ارسطو کی رائے کے خلاف ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، حکمائے اسلام، ١٩٤:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (لفظاً) گزرنا، جانے کی جگہ؛ (مجازاً) راستہ، راہ (کسی شخص یا گروہ کا) مسلک، آئین، طریق۔ "اس دور میں لوگوں نے ابوالحسن الاشعری کا مذہب اپنا لیا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٩٠:٣ ) ٢ - عقیدہ، دین، دھرم۔ "آپ کسی بھی مذہب کے مسلک سے متعلق ہوں پاکستان کی ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔"      ( ١٩٩٣ء، اردونامہ، لاہور، جولائی، ٢٠ ) ٤ - رائے، نظریہ۔ "ابن رشد کہتا ہے کہ یہ مذہب ارسطو کی رائے کے خلاف ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، حکمائے اسلام، ١٩٤:٢ )

اصل لفظ: ذہب
جنس: مذکر