مراد

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - وہ جس کی خواہش یا ارادہ کیا گیا ہو، وہ چیز جس کا ارادہ کیا گیا ہو، مقصود۔ "اسی طرح مراد (یعنی جس چیز کا ارادہ کیا گیا ہو) . اس کا صرور بھی اپنے اسباب سے وجوباً ہی ہو گا۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات (ترجمہ)، ٢٤٧ ) ٢ - مطلب، غرض، منشا، مقصد نیز مفہوم، معنی۔ "فلسفۂ حیات سے مراد وہ زاویۂ نظر اور زندگی کے بارے میں وہ رویہ ہے جس کے تحت . ناول نویس قلم اٹھاتا ہے۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتخ پوری، حیات و خدمات، ٤٤٠:٢ ) ٣ - خواہش، تمنا، آرزو، حاجت۔ "خدا اسی طرح ہر کسی کی مراد پوری کرے۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ١٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٠٣ء کو "مثنوی نوسرہار (اردو ادب، ستمبر، ١٩٥٧)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ جس کی خواہش یا ارادہ کیا گیا ہو، وہ چیز جس کا ارادہ کیا گیا ہو، مقصود۔ "اسی طرح مراد (یعنی جس چیز کا ارادہ کیا گیا ہو) . اس کا صرور بھی اپنے اسباب سے وجوباً ہی ہو گا۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات (ترجمہ)، ٢٤٧ ) ٢ - مطلب، غرض، منشا، مقصد نیز مفہوم، معنی۔ "فلسفۂ حیات سے مراد وہ زاویۂ نظر اور زندگی کے بارے میں وہ رویہ ہے جس کے تحت . ناول نویس قلم اٹھاتا ہے۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتخ پوری، حیات و خدمات، ٤٤٠:٢ ) ٣ - خواہش، تمنا، آرزو، حاجت۔ "خدا اسی طرح ہر کسی کی مراد پوری کرے۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ١٨٧ )

اصل لفظ: رود