مرتبہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - درجے کا، حد کا۔  لخت دل حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیں جس کے چراغ حسن سے روشن سب زمیں      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٧٠:٢ ) ١ - درجہ، رتبہ، منصب، عہدہ۔ "بالعموم اہمیت اس کی ہوتی ہے کہ . کون کیا حیثیت رکھتا ہے اس کی نہیں کہ ذاتی فضائل کے اعتبار سے کون کس مرتبے کا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، میر تقی میر اور آجچ کا ذوق شعری، ٤ ) ٢ - [ مجازا ]  اُونچا درجہ، بلند رتبہ۔  دیار نو میں اگر ہمارا وقار قائم نہیں تو کیا ہے کبھی ہمارا بھی مرتبہ تھا کبھی ہماری بھی آبرو تھی      ( ١٩٩٠ء، کاغذی ہے پیرہن، ١٠٠ ) ٣ - دفعہ، بار، باری۔ "حرف "ش" ہندی میں دو مرتبہ شمار ہوتا ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، اگست، ٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - درجہ، رتبہ، منصب، عہدہ۔ "بالعموم اہمیت اس کی ہوتی ہے کہ . کون کیا حیثیت رکھتا ہے اس کی نہیں کہ ذاتی فضائل کے اعتبار سے کون کس مرتبے کا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، میر تقی میر اور آجچ کا ذوق شعری، ٤ ) ٣ - دفعہ، بار، باری۔ "حرف "ش" ہندی میں دو مرتبہ شمار ہوتا ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، اگست، ٣٤ )

اصل لفظ: رتب