مرجھانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - پھول پتوں وغیرہ کا پژمردہ ہونا، کمھلانا۔ "یہی وہ خاموش پکار تھی جو نخل اسلام کو مرجھانے سے بچا سکتی ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٢٩ ) ٢ - پھل وغیرہ کا سوکھنا، خشک ہونا۔  دل کا یہ احوال ہے غم سے ترے اے مست ناز جیسے مرجھایا ہوا دانہ کوئی انگور کا      ( ١٨٤٥ء، ذوق، د، ٥١ ) ٣ - رنگ کا پھیکا پڑ جانا یا اڑ جانا۔ "وہیل سرخ پھولوں کے درمیان گھر مرجھاتی ہے اور مر جاتی ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، سیاہ آنکھ میں تصویر، ١٠٤ ) ٤ - اداس ہونا، افسردہ ہونا، غمگین ہونا۔ "وہ قید تنہائی سے جھنجھلایا ہوا ضرور تھا لیکن مرجھایا ہوا ہرگز نہ تھا۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ٩٠ ) ٥ - افسردہ کرنا، پژمردہ کرنا، مغموم کر دینا۔  افسردہ ہوا دل تو صبا کیسی امیدیں مرجھا گیا یہ پھول تو کلیاں نہ کھلتیں اور      ( ١٩٩٢ء، افکار، کراچی، مارچ، (صبا اکبر آبادی)، ٣٧ ) ٦ - انتہائی تشنگی؛ (مجازاً) جیسے پانی کے بغیر پتے اور پھول وغیرہ پژمردہ ہو جاتے ہیں۔  ایک بڑھیا سے کہا اے ماں مرے دل کا کنول پانی بن مرجھائے جاتا ٹک دے پانی کر نہ ڈھیل      ( ١٧٣٢ء، کربل کتھا، ١١٠ ) ٧ - دُبلا ہونا، لاغر ہونا۔ "آخر آج تمھاری طبیعیت کی یہ کیا کیفیت ہے تم تو بے طرح مرجھائی ہوئی ہو۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٦٤ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ 'فعل' ہے اردو میں اپنے اصلی معنی میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل مستعمل ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ہوا۔

مثالیں

١ - پھول پتوں وغیرہ کا پژمردہ ہونا، کمھلانا۔ "یہی وہ خاموش پکار تھی جو نخل اسلام کو مرجھانے سے بچا سکتی ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٢٩ ) ٣ - رنگ کا پھیکا پڑ جانا یا اڑ جانا۔ "وہیل سرخ پھولوں کے درمیان گھر مرجھاتی ہے اور مر جاتی ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، سیاہ آنکھ میں تصویر، ١٠٤ ) ٤ - اداس ہونا، افسردہ ہونا، غمگین ہونا۔ "وہ قید تنہائی سے جھنجھلایا ہوا ضرور تھا لیکن مرجھایا ہوا ہرگز نہ تھا۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ٩٠ ) ٧ - دُبلا ہونا، لاغر ہونا۔ "آخر آج تمھاری طبیعیت کی یہ کیا کیفیت ہے تم تو بے طرح مرجھائی ہوئی ہو۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٦٤ )