مرد

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - حریف  مرد عشق ستیزہ کار ہے دل ملک الموت سے دو چار ہے دل      ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٨٤ ) ٢ - اہل، لائق، شایاں۔  یاد پری رخاں نے اڑائی لحد میں نیند میں مرد عشق تھا مجھے سونا حرام تھا      ( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی، ٢١ ) ٣ - شریف، عالی خاندان، خاندانی۔ "آغا کے وہاں جانا اب کسی مرد آدمی کا کام نہیں ہے۔"      ( ١٨٩٣ء، دلچسپ، ٩٩:٢ ) ١ - نر (عورت کا نقیض)۔ "عورت جب اپنی کرنی پر آجائے تو مرد کیا کر سکتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٧٩ ) ٢ - آدمی، بشر، شخص، آدم زاد، مانس۔  یہ لاش بے کفن، اسد خستہ جاں کی ہے حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا      ( ١٩٦٩ء، غالب، دیوان، ١٥٥ ) ٣ - شوہر، پتی، خاوند۔ "مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں رانڈ ہوں یا میرا مرد زندہ ہے۔"      ( ١٩٠٣ء، سرشار، بچھڑی ہوئی دلہن، ٦٥ ) ٤ - بہادر، دلیر، سورما؛ حوصلہ مند، غیرت مند آدمی۔ "مرد ایسے موقعوں پر خون کر دیتے ہیں اور نامزد خودکشی۔      ( ١٩٨٩ء، آب گم، ٣٥٣ ) ٥ - شریف آدمی  پتھر ہے اس کے واسطے موج نسیم بھی نازک بہت ہے آئند آبروے مرد      ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ٢٤٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٠٣ء کو "نوسرہار (اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - شریف، عالی خاندان، خاندانی۔ "آغا کے وہاں جانا اب کسی مرد آدمی کا کام نہیں ہے۔"      ( ١٨٩٣ء، دلچسپ، ٩٩:٢ ) ١ - نر (عورت کا نقیض)۔ "عورت جب اپنی کرنی پر آجائے تو مرد کیا کر سکتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٧٩ ) ٣ - شوہر، پتی، خاوند۔ "مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں رانڈ ہوں یا میرا مرد زندہ ہے۔"      ( ١٩٠٣ء، سرشار، بچھڑی ہوئی دلہن، ٦٥ ) ٤ - بہادر، دلیر، سورما؛ حوصلہ مند، غیرت مند آدمی۔ "مرد ایسے موقعوں پر خون کر دیتے ہیں اور نامزد خودکشی۔      ( ١٩٨٩ء، آب گم، ٣٥٣ )