مرفوع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بلند کیا گیا، اٹھایا گیا، اٹھایا ہوا، بلند کیا ہوا۔  مرفوع پیمبروں کے دایات باسورۂ انبیاء کے آیات      ( ١٨٨٣ء، کلیات نعت محسن، ١٣٨ ) ٢ - رفع کیا گیا، دور کیا گیا، مٹایا ہوا۔  ظلمتیں دل کی ہوں نہ کیوں مرفوع کہ ہوا بدر عشق یار طلوع      ( ١٩٢٤ء، کلیات حسرت موہانی، ٢١٥ ) ٣ - [ قواعد ]  وہ (حرف) جس پر پیش کی حرکت ہو، مضمومہ۔ "مجھ سے پوچھنے لگے کہ یہ لفظ مرفوع یا منصوب یا مجرور کیوں ہے۔"      ( ١٨٥٥ء، ریاض المسلمین، ٧٢ ) ٤ - وہ (حدیث) جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے، وہ حدیث جس کے راویوں کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے۔ "اس کی تائید ایک مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، انبیائے قرآن، ٢٣١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء کو "عجائب القصص" کے ترجمے میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - [ قواعد ]  وہ (حرف) جس پر پیش کی حرکت ہو، مضمومہ۔ "مجھ سے پوچھنے لگے کہ یہ لفظ مرفوع یا منصوب یا مجرور کیوں ہے۔"      ( ١٨٥٥ء، ریاض المسلمین، ٧٢ ) ٤ - وہ (حدیث) جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے، وہ حدیث جس کے راویوں کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے۔ "اس کی تائید ایک مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، انبیائے قرآن، ٢٣١ )

اصل لفظ: رفع
جنس: مذکر