مروڑی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - بل دار نیز ٹیڑھا، خم کھایا ہوا۔ "پورے نظام کو متوازن رکھنے کے لیے ایک باریک مروڑی دھاگہ استعمال کیا گیا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، آواز، ٦٣٣ ) ١ - وہ سخت آٹا وغیرہ جس کو روٹی پکانے میں ہاتھ سے مل کر بتی کی صورت میں ہتھیلی اور انگلیوں سے چھڑاتے ہیں۔ "میں نے کروٹ مکمل کر لی تھی، وہ انگلیوں پر سے آٹے کی مروڑیاں اتارتی میرے پاس آگئی۔"      ( ١٩٤٤ء، آنچل، ١٤ ) ٢ - پیٹ کا پیچ، مروڑ۔ "جن دواؤں سے پیٹ میں مروڑی پیدا ہوتی ہے ان میں اجوائن ملانا چاہیے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٢٠:٢ ) ٤ - بل، پیچ۔ "ساڑھیوں کی مروڑیوں پر بھی یہ بیج ہوتا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، خان فضل الرحمان، سلک اوک ٹاؤن، ٨ ) ٥ - گانٹھ۔ "شیر کی دم پر دو مروڑیاں ہیں جن کے مروڑنے سے اندر کا تار گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٢١ ) ٦ - بل کھائی ہوئی یا مڑی تڑی چیز، گنجلک، گلجھٹی، گرہ۔ "ان کے ساتھ گوند کی ایک مروڑی بھی تھی اور اس میں سے سیخ کباب کی دھلی ہوئی سیخ کی سی مدھم سے خوشبو آرہی تھی۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٣٩ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم 'مروڑ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ تانیث و نسبت لگانے سے 'مروڑی' بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور 'اسم نیز صفت' مستعمل ہے۔ ١٩٤٤ء کو "آنچل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بل دار نیز ٹیڑھا، خم کھایا ہوا۔ "پورے نظام کو متوازن رکھنے کے لیے ایک باریک مروڑی دھاگہ استعمال کیا گیا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، آواز، ٦٣٣ ) ١ - وہ سخت آٹا وغیرہ جس کو روٹی پکانے میں ہاتھ سے مل کر بتی کی صورت میں ہتھیلی اور انگلیوں سے چھڑاتے ہیں۔ "میں نے کروٹ مکمل کر لی تھی، وہ انگلیوں پر سے آٹے کی مروڑیاں اتارتی میرے پاس آگئی۔"      ( ١٩٤٤ء، آنچل، ١٤ ) ٢ - پیٹ کا پیچ، مروڑ۔ "جن دواؤں سے پیٹ میں مروڑی پیدا ہوتی ہے ان میں اجوائن ملانا چاہیے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٢٠:٢ ) ٤ - بل، پیچ۔ "ساڑھیوں کی مروڑیوں پر بھی یہ بیج ہوتا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، خان فضل الرحمان، سلک اوک ٹاؤن، ٨ ) ٥ - گانٹھ۔ "شیر کی دم پر دو مروڑیاں ہیں جن کے مروڑنے سے اندر کا تار گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٢١ ) ٦ - بل کھائی ہوئی یا مڑی تڑی چیز، گنجلک، گلجھٹی، گرہ۔ "ان کے ساتھ گوند کی ایک مروڑی بھی تھی اور اس میں سے سیخ کباب کی دھلی ہوئی سیخ کی سی مدھم سے خوشبو آرہی تھی۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٣٩ )

اصل لفظ: مَروڑ
جنس: مؤنث