مزید

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - زیادہ کیا ہوا، بڑھایا ہوا، زیادہ، اور بھی، افزوں۔ "جس شدت اور تیزی سے اس پر حملے کیے گئے اسی شدت اور تیزی سے ان میں مزید توانائی آنے لگی"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، حیات و خدمات، ٥١٨:٢ ) ٢ - فاضل، فالتو، اضافی۔  دل بیچتے ہیں عاشق بیتاب لیجیے قیمت وہ ہے جو مول ہو مال مزید کا      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٧٩٦:٣ ) ١ - افزونی، زیادتی، بیشی، بڑھوتری، اضافہ۔ (فرہنگ آصفیہ، پلیٹس) ٢ - منفعت، فائدہ، مفاد وغیرہ۔ (پلیٹس) ٣ - [ قواعد ]  وہ حرف جو بعد خروج بلافصل آئے۔ "لغت میں مزید کے معنی زیادہ کیے ہوئے کے ہیں اور اصطلاح میں وہ حرف جو بعد خروج بلافصل آئے"      ( ١٩٣٩ء، میزان سخن، ١٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زیادہ کیا ہوا، بڑھایا ہوا، زیادہ، اور بھی، افزوں۔ "جس شدت اور تیزی سے اس پر حملے کیے گئے اسی شدت اور تیزی سے ان میں مزید توانائی آنے لگی"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، حیات و خدمات، ٥١٨:٢ ) ٣ - [ قواعد ]  وہ حرف جو بعد خروج بلافصل آئے۔ "لغت میں مزید کے معنی زیادہ کیے ہوئے کے ہیں اور اصطلاح میں وہ حرف جو بعد خروج بلافصل آئے"      ( ١٩٣٩ء، میزان سخن، ١٣٤ )

اصل لفظ: زاد