مسبوق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس پر سبقت لی جا چکی ہو، پیچھے رہ جانے والا۔ "چونکہ ہر "ماقبل" حال" میں مدغم ہوتے وقت مسبوق بالعدم ہوتا ہے . حادث کہا جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، منطق فلسفہ اور سائنس، ٣٩ ) ٢ - گزرا ہوا گزشتہ، سابق۔ (فرہنگ آصفیہ؛ نوراللغات) ٣ - [ فقہ ]  ایسا شخص جو ایک یا دو رکعت ختم ہونے کے بعد نماز باجماعت میں شریک ہوا ہو۔ "مسبوق اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کو امام کے ساتھ شروع سے ایک یا کئی رکعتیں نہ ملی ہوں۔"      ( ١٩٥٣ء، مفتی کفایت اللہ، تعلیم الاسلام، ٤٢:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم صفت' ہے۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت مستعمل ہے۔ ١٨٣٤ء کو "مثنوی ناسخ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس پر سبقت لی جا چکی ہو، پیچھے رہ جانے والا۔ "چونکہ ہر "ماقبل" حال" میں مدغم ہوتے وقت مسبوق بالعدم ہوتا ہے . حادث کہا جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، منطق فلسفہ اور سائنس، ٣٩ ) ٣ - [ فقہ ]  ایسا شخص جو ایک یا دو رکعت ختم ہونے کے بعد نماز باجماعت میں شریک ہوا ہو۔ "مسبوق اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کو امام کے ساتھ شروع سے ایک یا کئی رکعتیں نہ ملی ہوں۔"      ( ١٩٥٣ء، مفتی کفایت اللہ، تعلیم الاسلام، ٤٢:٣ )

اصل لفظ: سبق
جنس: مذکر