مستانا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سرشار، مست، مخمور۔  حس معنی کا پرستار یہ مستانہ ہے ہوش کی بات جو کہتا ہے وہ دیوانہ ہے      ( ١٩٣٥ء، حرف ناتمام، ٣ ) ٢ - مجذوب، ملنگ، دوریش۔ "یہ لاکھوں بے گھر اور بے در مستانوں اور درویشوں کا دیس تھا۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٨ ) ٣ - مست کر دینے والا، مستی سے بھرا ہوا۔ "اس کام کو . لمحاتی مستانہ ترنگ کہنا زیادہ ناموزوں نہ ہو گا۔"      ( ١٩٩٧ء، صحیفہ، لاہور، ستمبر، ١٧ ) ١ - مست کی مانند، مست ہو کر، مستانہ وار، دیوانوں کا سا۔  جنوں کی منزلیں مستانہ طے کر خرد مندوں کو اپنے ساتھ مت لے      ( ١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، (رئیس امر وہی)، ١٢ ستمبر، ٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم نیز صفت 'مست' کے ساتھ 'انہ' بطور لاحقۂ صفت و تمیز لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - مجذوب، ملنگ، دوریش۔ "یہ لاکھوں بے گھر اور بے در مستانوں اور درویشوں کا دیس تھا۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٨ ) ٣ - مست کر دینے والا، مستی سے بھرا ہوا۔ "اس کام کو . لمحاتی مستانہ ترنگ کہنا زیادہ ناموزوں نہ ہو گا۔"      ( ١٩٩٧ء، صحیفہ، لاہور، ستمبر، ١٧ )

اصل لفظ: مَسْت
جنس: مذکر