مستحب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - [ فقہ ]  ایسا فعل جس کے کرنے پر ثواب ہو اور نہ کرنے پر کچھ عذاب نہ ہو؛ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فعل کبھی خود کیا ہو یا اس کے کرنے پر ثواب کا ذکر کیا ہو۔ "٢ ہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوئے، تو عاشورا کا روزہ مستحب ہو گیا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٦:٢ ) ٢ - پسندیدہ، مستحسن۔ "قرآن کی قرات کے ساتھ رونا مستحب ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، لاہور، دسمبر، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم نیز صفت ہے اردو میں بطور اسم اور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٨٠ء کو "سودا" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ فقہ ]  ایسا فعل جس کے کرنے پر ثواب ہو اور نہ کرنے پر کچھ عذاب نہ ہو؛ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فعل کبھی خود کیا ہو یا اس کے کرنے پر ثواب کا ذکر کیا ہو۔ "٢ ہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوئے، تو عاشورا کا روزہ مستحب ہو گیا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٦:٢ ) ٢ - پسندیدہ، مستحسن۔ "قرآن کی قرات کے ساتھ رونا مستحب ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، لاہور، دسمبر، ١٠ )

اصل لفظ: حبب
جنس: مذکر