مستسقی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سیرابی چاہنے والا؛ پیاسا، تشنہ۔ "اس وقت کا انسان ایک ایسا مستسقی ہے جس کے سامنے دریا جاری ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، من و یزادں (نگار، کراچی، دسمبر، ١٩٩٤، ٣٣) ) ٢ - [ طب ]  مرض استقا میں مبتلا، استسقاء کا مریض، جلندر کا مریض۔ "زرد رنگ اور ہر وقت کا کراہنا صاف بتاتا تھا کہ یہ شخص مستسقی ہے۔"      ( ١٩٢١ء، رسائل عمادالملک، ٤٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم صفت' ہے اردو میں بطور صفت نیز اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩١ء کو "ہشت بہشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سیرابی چاہنے والا؛ پیاسا، تشنہ۔ "اس وقت کا انسان ایک ایسا مستسقی ہے جس کے سامنے دریا جاری ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، من و یزادں (نگار، کراچی، دسمبر، ١٩٩٤، ٣٣) ) ٢ - [ طب ]  مرض استقا میں مبتلا، استسقاء کا مریض، جلندر کا مریض۔ "زرد رنگ اور ہر وقت کا کراہنا صاف بتاتا تھا کہ یہ شخص مستسقی ہے۔"      ( ١٩٢١ء، رسائل عمادالملک، ٤٦ )

اصل لفظ: سقی
جنس: مذکر