مستطاب
معنی
١ - پاک ختم تیرے نام پر ہے یہ کتاب اے خداے مستعان و مستطاب ( ١٨٢٨ء، باغ ارم، ١٢٤ ) ٢ - مبارک، سعید (عموماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت علی کے لیے مستعمل)۔ یعنی رہتے ہیں رسولِ مستطاب ہے مصور کو قیامت میں عذاب ( ١٨٩٠ء، مثنوی نظم المواحد، ٥٧ ) ٣ - سعد، عمدہ، خوب۔ سلام ان پر کہ وہ ہوں گے ولی یوم حساب بفضل ایزدی ہو گا مرا دن مستطاب ( ١٩٩٠ء، زمزمۂ درود، ٧٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٢٨ء کو "باغ ارم" میں مستعمل ملتا ہے۔