مستعار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ادھار لیا ہوا، عارضی طور پر یا عاریۃً لیا ہوا، مانگا ہوا۔ "مسخرہ جب اپنا مستعار کلام سنا رہا تھا. ہر چہرہ مسکراتا ضرور نظر آیا۔"      ( ١٩٩٢ء، افکار، کراچی، فروری، ٦٠ ) ٢ - چند روزہ، عارضی۔ "امن کا دور ہو یا جنگ کا زمانہ، ہم اپنی حیات مستعار کا ہر دن فتح پر ختم کرتے ہیں۔"      ( ١٩٩٠ء، قلعہ کہانی، ٤٢ ) ٣ - اخذ کیا ہوا، ماخوذ۔ "یاؤس کی اصطلاح زمرہ (Paradigm) دراصل سائنس کے فلسفی ٹی ایس کوہن (Khun) سے مستعار ہے۔"      ( ١٩٩٣ء، ساختیات پس ختیات اور مشرقی شعریات، ٣٠٣ ) ٤ - وہ لفظ یا فقرہ جو مجازی معنوں میں استعمال کیا جائے۔ "مشبہ بہ مشبہ پر اور مستعار منہہ، مستعار پر یقیناً ایک اضافہ ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، اردو شاعری کا فنی ارتقاء، ٣٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت 'ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٨ء کو "گلزار داغ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ادھار لیا ہوا، عارضی طور پر یا عاریۃً لیا ہوا، مانگا ہوا۔ "مسخرہ جب اپنا مستعار کلام سنا رہا تھا. ہر چہرہ مسکراتا ضرور نظر آیا۔"      ( ١٩٩٢ء، افکار، کراچی، فروری، ٦٠ ) ٢ - چند روزہ، عارضی۔ "امن کا دور ہو یا جنگ کا زمانہ، ہم اپنی حیات مستعار کا ہر دن فتح پر ختم کرتے ہیں۔"      ( ١٩٩٠ء، قلعہ کہانی، ٤٢ ) ٣ - اخذ کیا ہوا، ماخوذ۔ "یاؤس کی اصطلاح زمرہ (Paradigm) دراصل سائنس کے فلسفی ٹی ایس کوہن (Khun) سے مستعار ہے۔"      ( ١٩٩٣ء، ساختیات پس ختیات اور مشرقی شعریات، ٣٠٣ ) ٤ - وہ لفظ یا فقرہ جو مجازی معنوں میں استعمال کیا جائے۔ "مشبہ بہ مشبہ پر اور مستعار منہہ، مستعار پر یقیناً ایک اضافہ ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، اردو شاعری کا فنی ارتقاء، ٣٦ )

اصل لفظ: عار
جنس: مذکر