مستغرق

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ منطق ]  وہ حد جو اطلاق کامل کے لیے استعمال کی جائے۔ (مفتاح المنطق، 363) ١ - ڈوبا ہوا، غرق شدہ؛ (مجازاً) حد درجہ محو، گم (کسی کام یا خیال وغیرہ میں)۔ "چونٹیاں بحرفکر میں مستغرق اپنے بلوں کو دانوں سے بھرتی ہیں۔"      ( ١٩٩٦ء، آئندہ، کراچی، مئی تا جولائی، ٩١ ) ٢ - [ قانون ]  جائیداد، زمین وغیرہ جو کسی قرضے میں مکفول کر دی جائے۔ "اس طرح اضافہ ہوتے ہوتے مدیون کی کل جائیداد مستغرق ہو جاتی تھی۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٨٧:٤ ) ٣ - [ فلسفہ ]  عام، عمومی، کلی (مختص یا جزئی کی ضد)۔ "اس کا تعین ضروری ہے کہ حکم مستغرق ہے یا غیر مستغرق۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمتہ الاشراق، ٣٩ )

اشتقاق

غرق  اِسْتَغْراق  مُسْتَغْرَق

مثالیں

١ - ڈوبا ہوا، غرق شدہ؛ (مجازاً) حد درجہ محو، گم (کسی کام یا خیال وغیرہ میں)۔ "چونٹیاں بحرفکر میں مستغرق اپنے بلوں کو دانوں سے بھرتی ہیں۔"      ( ١٩٩٦ء، آئندہ، کراچی، مئی تا جولائی، ٩١ ) ٢ - [ قانون ]  جائیداد، زمین وغیرہ جو کسی قرضے میں مکفول کر دی جائے۔ "اس طرح اضافہ ہوتے ہوتے مدیون کی کل جائیداد مستغرق ہو جاتی تھی۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٨٧:٤ ) ٣ - [ فلسفہ ]  عام، عمومی، کلی (مختص یا جزئی کی ضد)۔ "اس کا تعین ضروری ہے کہ حکم مستغرق ہے یا غیر مستغرق۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمتہ الاشراق، ٣٩ )

اصل لفظ: غرق
جنس: مذکر