مستملی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جو کسی سے لکھوانے کا خواہش مند ہو؛ (مجازاً) کاتب۔ "وہ خود اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں لکھتے تھے بلکہ کاتب (مستملی) سے لکھواتے تھے۔"      ( ١٩٦٢ء، اردو نثر کا آغاز اور ارتقاء، ٩١ ) ٢ - وہ شخص جو معلم کے الفاظ دور بیٹھے ہوئے شاگردوں کو بلند آواز سے سناتا ہے۔" "استاد کی آواز شاگردوں تک پہنچانے کے لیے تین تین سو مستملی کھڑے ہوئے تھے۔"      ( ١٩٠٢ء، مقالات شروانی، ٦٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے اردو میں بطور اسم نیز صفت مستعمل ہے۔ ١٩٦٢ء کو "اردو نثر کا آغاز اور ارتقاء" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو کسی سے لکھوانے کا خواہش مند ہو؛ (مجازاً) کاتب۔ "وہ خود اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں لکھتے تھے بلکہ کاتب (مستملی) سے لکھواتے تھے۔"      ( ١٩٦٢ء، اردو نثر کا آغاز اور ارتقاء، ٩١ ) ٢ - وہ شخص جو معلم کے الفاظ دور بیٹھے ہوئے شاگردوں کو بلند آواز سے سناتا ہے۔" "استاد کی آواز شاگردوں تک پہنچانے کے لیے تین تین سو مستملی کھڑے ہوئے تھے۔"      ( ١٩٠٢ء، مقالات شروانی، ٦٥ )

اصل لفظ: ملا
جنس: مذکر