مستمند

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ مجازا ]  پہلوان "بے شک آپ بڑے تنو مند ہیں نامور مستمند ہیں۔"      ( ١٩٠١ء، عشق و عاشقی کا گنجینہ، ٩ ) ١ - غمگین، رنجیدہ۔  زبانِ شکوہ دلِ مستمند کھولے گا نہ ہو معاملہ کسی کا رفت گزشت      ( ١٩٧٥ء، خروشِ خم، ٣١ ) ٢ - حاجت مند، ضرورت مند؛ (مجازاً) بے نوا۔  سجدہ گاہِ مستمندان ہے ترا نقشِ قدم بے نواؤں کا وہی ملجا وہی مامن ہوا      ( ١٩٥٠ء، ترانہ وحشت، ٨ ) ٣ - تیار، آمادہ، مستعد۔  لگی بات عورت کی اسکو پسند کمر باندھ ذودی ہوا مستمند      ( ١٨٥٢ء، قصۂ زن تنبولی (اردو کی منظوم داستانیں، ٥٠٦:١) ) ٤ - مستفید، فائدہ مند، فیض یاب۔ "نئی پود اورر جواں نسل جو نئی اِیجادات سے مستمند ہوتی ہے . نئے تصورات کا پرچار کرتی ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، سائنس اور فلسفہ کی تحقیق، ٧٥٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ 'صفت نیز اسم' ہے اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ مجازا ]  پہلوان "بے شک آپ بڑے تنو مند ہیں نامور مستمند ہیں۔"      ( ١٩٠١ء، عشق و عاشقی کا گنجینہ، ٩ ) ٤ - مستفید، فائدہ مند، فیض یاب۔ "نئی پود اورر جواں نسل جو نئی اِیجادات سے مستمند ہوتی ہے . نئے تصورات کا پرچار کرتی ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، سائنس اور فلسفہ کی تحقیق، ٧٥٦ )

جنس: مذکر