مستودع

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - حفاظت کی جگہ، سپرد کیے جانے یا امانت رکھنے کی جگہ۔ "مستقر ٹھہرنے کی جگہ جسے ٹھکانا کہا اور مستودع سپرد کئے جانے اور امانت رکھے جانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٢ء، ترجمۂ قرآن، مولانا محمود الحسن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٢٤٦ ) ١ - ودیعت کی گیا، سپرد کیا ہوا (کوئی شخص یا چیز)۔ "جو چیز جنت سے ہو گی ضرور اس میں شفاء امراضِ عام اور برکت ظاہری و باطنی مستودع ہو گی۔"      ( ١٩٣٢ء، ہمدرد صحت، دہلی، جولائی، ١٨٦ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' نیز اسم ہے اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٣٢ء کو "ہمدرد صحت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حفاظت کی جگہ، سپرد کیے جانے یا امانت رکھنے کی جگہ۔ "مستقر ٹھہرنے کی جگہ جسے ٹھکانا کہا اور مستودع سپرد کئے جانے اور امانت رکھے جانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٢ء، ترجمۂ قرآن، مولانا محمود الحسن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٢٤٦ ) ١ - ودیعت کی گیا، سپرد کیا ہوا (کوئی شخص یا چیز)۔ "جو چیز جنت سے ہو گی ضرور اس میں شفاء امراضِ عام اور برکت ظاہری و باطنی مستودع ہو گی۔"      ( ١٩٣٢ء، ہمدرد صحت، دہلی، جولائی، ١٨٦ )

اصل لفظ: ودع
جنس: مؤنث