مستہلک

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ہلاک کیا ہوا، ہلاکت زدہ، نیست و نابود، معدوم۔ "اس کا کچھ حصہ عروج کرکے اس کے وحدت میں فانی اور مستہلک ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٣٨ ) ٢ - [ تصوف ]  مستہلک اوس شخص کو کہتے ہیں جو ذاتِ احدیث میں فانی ہو اس طرح پر کہ اوس میں کوئی رسم (نشان) نہ باقی رہے فنا فی اللہ۔ (مصباح التعرف) ٣ - محو، مستغرق۔ "خدا کے لیے مجھ پر ایسی توجہ فرمائیں کہ میرا یہ شغل ترقی کر جائے تاکہ رفتہ رفتہ بالکل مستہلک اور مستغرق ہو جاؤں۔"      ( ١٩٩٢ء، نگار، کراچی، مئی، ٢٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "میر" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہلاک کیا ہوا، ہلاکت زدہ، نیست و نابود، معدوم۔ "اس کا کچھ حصہ عروج کرکے اس کے وحدت میں فانی اور مستہلک ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٣٨ ) ٣ - محو، مستغرق۔ "خدا کے لیے مجھ پر ایسی توجہ فرمائیں کہ میرا یہ شغل ترقی کر جائے تاکہ رفتہ رفتہ بالکل مستہلک اور مستغرق ہو جاؤں۔"      ( ١٩٩٢ء، نگار، کراچی، مئی، ٢٥ )

اصل لفظ: ہلک
جنس: مذکر