مسلم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - مطیع، فرمانبردار، تابع فرمان۔ "جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ "مسلم (تابع فرمان) ہو جاؤ"، تو اس نے کہا "میں رب العٰلمین کا مسلم ہوگیا۔"      ( ١٩٧٨ء، سیرت سرور عالم، ٤٥٢:٢ ) ١ - مذہب اسلام کا پیرو، مسلمان۔ "اس صورت حال سے برطانیہ نے اپنے مسلم مقبوضہ علاقوں میں خاطر خواہ سیاسی فائدے اٹھائے۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٠٣ ) ٢ - [ مؤنث ]  مراد: صحاح ستہ میں سے حدیث کی ایک کتاب جس کے جامع امام مسلم ہیں اور جو صحت میں صحیح بخاری کے ہم پلہ یا اس کے بعد شمار کی جاتی ہے، صحیح مسلم۔  درسگاہ عشق کا ہے کچھ انوکھا ہی نصاب ترمذی ہے یاں نہ مسلم ہے نہ بو داؤد ہے      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٣٨٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٠٣ء کو "مثنوی نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مطیع، فرمانبردار، تابع فرمان۔ "جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ "مسلم (تابع فرمان) ہو جاؤ"، تو اس نے کہا "میں رب العٰلمین کا مسلم ہوگیا۔"      ( ١٩٧٨ء، سیرت سرور عالم، ٤٥٢:٢ ) ١ - مذہب اسلام کا پیرو، مسلمان۔ "اس صورت حال سے برطانیہ نے اپنے مسلم مقبوضہ علاقوں میں خاطر خواہ سیاسی فائدے اٹھائے۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٠٣ )

اصل لفظ: سلم