مسلول
معنی
١ - [ طب ] سل کی بیماری کا مارا ہوا، سل کا مریض۔ "یہ نسخہ تیار ہو رہا تھا ابھی تک تکمیل کو نہ پہنچا تھا کہ ایک مریضۂ مسلول کو استعمال کرایا۔" ( ١٩٣٤ء، ہمدرد صحت، دہلی، جولائی، ١٨٩ ) ٢ - نیام سے نکلی ہوئی، برہنہ (تلوار)۔ فاروق حق و باطل امام الہدیٰ تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام ( ١٩٠٧ء، حدائق بخشش، ٢٤:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨١٤ء کو "نورتن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - [ طب ] سل کی بیماری کا مارا ہوا، سل کا مریض۔ "یہ نسخہ تیار ہو رہا تھا ابھی تک تکمیل کو نہ پہنچا تھا کہ ایک مریضۂ مسلول کو استعمال کرایا۔" ( ١٩٣٤ء، ہمدرد صحت، دہلی، جولائی، ١٨٩ )