مسلوک
معنی
١ - جاری کیا گیا؛ (راستہ) جس پر آمد و رفت ہو؛ آمدو رفت کیا گیا؛ (مجازاً) جاری۔ "امرا باہم دگر طریقہ فروتنی کا مسلوک رکھتے ہیں۔" ( ١٨٦٩ء، غالب، خطوط غالب، ٦٠١ ) ٢ - سلوک کرنے والا، احسان کرنے والا۔ "مریم، ہنری کے ساتھ مسلوک بھی ہوا کرتی تھی۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، دھوکا، ٢١ ) ٣ - سلوک کیا گیا، احسان کیا گیا۔ "بارہا بیش قیمت اشیاء اور معتدیہ نقد سے مسلوک ہوتا تھا۔" ( ١٨٩٣ء، نشتر، ٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "میر" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جاری کیا گیا؛ (راستہ) جس پر آمد و رفت ہو؛ آمدو رفت کیا گیا؛ (مجازاً) جاری۔ "امرا باہم دگر طریقہ فروتنی کا مسلوک رکھتے ہیں۔" ( ١٨٦٩ء، غالب، خطوط غالب، ٦٠١ ) ٢ - سلوک کرنے والا، احسان کرنے والا۔ "مریم، ہنری کے ساتھ مسلوک بھی ہوا کرتی تھی۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، دھوکا، ٢١ ) ٣ - سلوک کیا گیا، احسان کیا گیا۔ "بارہا بیش قیمت اشیاء اور معتدیہ نقد سے مسلوک ہوتا تھا۔" ( ١٨٩٣ء، نشتر، ٤ )