مسکان
معنی
١ - ہلکی، مصنوعی یا الہڑ پن کی مسکراہٹ، شرمیلی مسکراہٹ، کٹھ ہنسی، مسکراہٹ۔ "اس وقت اس کے ہونٹوں پر ایسی بے بس مسکان ہوتی جس سے صدیوں کا دکھ جھانکتا۔" ( ١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٦٤ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل 'مسکانا' کا حاصل مصدر ہے اردو میں اپنی اصلی حالت اور معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٧ء کو "دو نیم" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہلکی، مصنوعی یا الہڑ پن کی مسکراہٹ، شرمیلی مسکراہٹ، کٹھ ہنسی، مسکراہٹ۔ "اس وقت اس کے ہونٹوں پر ایسی بے بس مسکان ہوتی جس سے صدیوں کا دکھ جھانکتا۔" ( ١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٦٤ )