مسکانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - ٹوٹنا، چٹ پٹ ہو جانا۔ (فرہنگ آصفیہ؛ جامع اللغات) ١ - مسکرانا (اس طرح ہنسنا کہ آواز نہ ہو، چہرے سے مسرت کا اظہار کرنا)۔  پھول ہنسیں، کلیاں مسکائیں پوری ہوں من کی آشائیں      ( ١٩٩٥ء، افکار، کراچی (سلام مچھلی شہری)، مارچ، ١١٦ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ مصدر 'مسکنا' کا تعدیہ ہے اردو میں اپنی اصلی حالت اور معنی میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل مستعمل ہے، سب سے پہلے ١٦١١ء کو "قلی قطب شاہ" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: مُسَکْنا