مسکنت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مسکینی، مفلسی، ناداری، غربت، عسرت۔ "قوم کی برائیوں اور بدحالیوں کو اس کی ذلت اور مسکنت کو دور کیا جائے۔"      ( ١٩٨٦ء، قرآن اور زندگی، ٤٨ ) ٢ - عاجزی، انکسار، فروتنی۔ "ڈاکٹر صاحب نے ایسی مسکنت اور عاجزی سے جواب لکھا جو یادگار حیثیت اختیار کر گیا۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتحپوری، حیات و خدمات، ٤١:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم' ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٣ء کو "فردوس تخیل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مسکینی، مفلسی، ناداری، غربت، عسرت۔ "قوم کی برائیوں اور بدحالیوں کو اس کی ذلت اور مسکنت کو دور کیا جائے۔"      ( ١٩٨٦ء، قرآن اور زندگی، ٤٨ ) ٢ - عاجزی، انکسار، فروتنی۔ "ڈاکٹر صاحب نے ایسی مسکنت اور عاجزی سے جواب لکھا جو یادگار حیثیت اختیار کر گیا۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتحپوری، حیات و خدمات، ٤١:١ )

اصل لفظ: سکن
جنس: مؤنث