مسہل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - [ طب ]  جو اسہال لائے، دست آور، وہ دوا جس سے دست آئیں، جلاب۔ "یہ وہ دوا یا شربت ہے جو مسہل کی حرارت کو ٹھنڈا کرتی ہے۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ١١ ) ٢ - [ طب ]  ایک طریقہ علاج جس میں مریض کو دست آور دوائیں دیکر اخلاط کے فساد کو دور کیا جاتا ہے۔  احوال اس کا دیکھ کے کہنے لگے طبیب اب فصد و مسہل اس کے لیے ہے مفید تام      ( ١٩٥٨ء، شہر آزر، ٦٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٦٩ء کو "دیوان غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ طب ]  جو اسہال لائے، دست آور، وہ دوا جس سے دست آئیں، جلاب۔ "یہ وہ دوا یا شربت ہے جو مسہل کی حرارت کو ٹھنڈا کرتی ہے۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ١١ )

اصل لفظ: سہل
جنس: مذکر