مشاکل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ عروض ]  ایک بحر کا نام جو بحر قریب کی مانند ہے کیونکہ دونوں کے رکن یکساں ہیں۔  وقت فکر آیا جو مشکل قد موزوں کا خیال کھنچ گئی بحرِ رمل بحرِ مشاکل کی طرف      ( ١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ١٢٢ ) ١ - مانند، مثل، ہم شکل۔ "ہر لفظ و عبارت کے مقابل میں اس کے کل مشاکل اور مرادف الفاظ و عبارات مختلفہ کو اکٹھا کرکے تطبیق دیتے۔"      ( ١٩٣٨ء، تراجم علمائے حدیث ہند، ١٥٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٨ء کو "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مانند، مثل، ہم شکل۔ "ہر لفظ و عبارت کے مقابل میں اس کے کل مشاکل اور مرادف الفاظ و عبارات مختلفہ کو اکٹھا کرکے تطبیق دیتے۔"      ( ١٩٣٨ء، تراجم علمائے حدیث ہند، ١٥٣:١ )

اصل لفظ: شکل
جنس: مؤنث