مشحون

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پر کیا ہوا، بھرا ہوا۔  مشحون بہ کلفت رہیں ارباب وفا کرتی ہے محبت امتحان دعویٰ      ( ١٩٦٧ء، لحن صریر، ١٨٣ ) ٢ - ترکیبات کے جزو آخر کے طور پر مستعمل، تراکیب میں بطور لاحقہ، عموماً خطوط میں مستعمل ہے۔ "برادر مکرم سلامت! بعد سلام مسنون تمنا مشحون کے مدعا یہ ہے۔"      ( ١٩١٤ء، مکتوبات حالی، ١٥٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مفعول ہے۔ اردو میں عربی سے من و عن داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٠٥ء کو "عجائب القصص" کے ترجمہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ترکیبات کے جزو آخر کے طور پر مستعمل، تراکیب میں بطور لاحقہ، عموماً خطوط میں مستعمل ہے۔ "برادر مکرم سلامت! بعد سلام مسنون تمنا مشحون کے مدعا یہ ہے۔"      ( ١٩١٤ء، مکتوبات حالی، ١٥٤ )

اصل لفظ: شحن
جنس: مذکر