مشرق

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - وہ سمت جدھر سے سورج نکلتا ہے، جائے شرق یعنی روشنی نکلنے کی جگہ، پورب، مغرب کی مقابل سمت۔ "وہی جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، قرآن اور زندگی، ١١ ) ٢ - دنیا کا مشرقی حصہ جس میں ایشیا کے تمام ممالک شامل ہیں، ایشیائی ممالک جو یورپ کے مشرق میں واقع ہیں۔ "خود مشرق کی دریافت کے لیے مغرب کو جاننا ضروری ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، متوازی نقوش، ٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ سمت جدھر سے سورج نکلتا ہے، جائے شرق یعنی روشنی نکلنے کی جگہ، پورب، مغرب کی مقابل سمت۔ "وہی جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، قرآن اور زندگی، ١١ ) ٢ - دنیا کا مشرقی حصہ جس میں ایشیا کے تمام ممالک شامل ہیں، ایشیائی ممالک جو یورپ کے مشرق میں واقع ہیں۔ "خود مشرق کی دریافت کے لیے مغرب کو جاننا ضروری ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، متوازی نقوش، ٢٣ )

اصل لفظ: شرق
جنس: مذکر