مشروعیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شرع کے موافق یا (شرعاً جائز) ہونے کی حالت، شرعی جواز، شرع کی پابندی۔ "امت میں کفار سے جہاد و قتال کی مشروعیت درحقیقت ایک رحمت ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، معارف القرآن، ٦٩:٨ ) ٢ - فرضیت، شرعاً فرض ہونا۔ "اس میں بیعت کی مشروعیات ضرورت فوائد اور اس کی چار قسمیں بیان کی گئی ہیں۔"      ( ١٩٩٧ء، صحیفہ، لاہور، جنوری تا مارچ، ٣٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت نیز اسم 'مشروع' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١١ء کو "تفسیر مولانا نعیم الدین مراد آبادی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شرع کے موافق یا (شرعاً جائز) ہونے کی حالت، شرعی جواز، شرع کی پابندی۔ "امت میں کفار سے جہاد و قتال کی مشروعیت درحقیقت ایک رحمت ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، معارف القرآن، ٦٩:٨ ) ٢ - فرضیت، شرعاً فرض ہونا۔ "اس میں بیعت کی مشروعیات ضرورت فوائد اور اس کی چار قسمیں بیان کی گئی ہیں۔"      ( ١٩٩٧ء، صحیفہ، لاہور، جنوری تا مارچ، ٣٨ )

اصل لفظ: شرع
جنس: مؤنث