مشفوع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس کی شفاعت یا سفارش کی گئی ہو۔ "طلب اجازت کی درخواست بھیجنے کے بعد شافع اور مشفوع دونوں نہایت بے چینی کے عالم میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے جواب کے منتظر کھڑے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٤١٧:١ ) ٢ - متحدہ، یک جاشدہ، دو یا زیادہ اشخاص کے اتحاد یا ملاپ سے بنا ہوا۔ (اسٹین گاس)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں عربی سے من و عن داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٦٤ء کو "کمالین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کی شفاعت یا سفارش کی گئی ہو۔ "طلب اجازت کی درخواست بھیجنے کے بعد شافع اور مشفوع دونوں نہایت بے چینی کے عالم میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے جواب کے منتظر کھڑے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٤١٧:١ )

اصل لفظ: شفع
جنس: مذکر