مشمول

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - شامل کیا ہوا، شریک کیا گیا، سب طرف سے گھیرا گیا، شمار میں کیا ہوا۔ "یہ ضرور ہوتا ہے کہ شاعری کا مشمول ہمیشہ بالکل ایک سا نہیں رہتا۔"      ( ١٩٧٩ء، اثبات و نفی، ٦٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "شمشیر خانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شامل کیا ہوا، شریک کیا گیا، سب طرف سے گھیرا گیا، شمار میں کیا ہوا۔ "یہ ضرور ہوتا ہے کہ شاعری کا مشمول ہمیشہ بالکل ایک سا نہیں رہتا۔"      ( ١٩٧٩ء، اثبات و نفی، ٦٩ )

اصل لفظ: شمل
جنس: مذکر