مصابرت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - باہم صبر سے پیش آنا، کسی سختی پر ضبط و تحمل، صبر کرنا، رنج و غم میں صبر کرنا۔ "انہوں نے تحمل کر کے مصابرت کا طریقہ کس خوبی سے اختیار کیا۔"      ( ١٨٨٠ء، تاریخ ہندوستان، ١٢:١ ) ٢ - دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا۔ "مصابرت اسی صبر سے ماخوذ ہے، اس کے معنی ہیں دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٢٧١:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم' ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء کو "عجائب القصص" کے ترجمہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باہم صبر سے پیش آنا، کسی سختی پر ضبط و تحمل، صبر کرنا، رنج و غم میں صبر کرنا۔ "انہوں نے تحمل کر کے مصابرت کا طریقہ کس خوبی سے اختیار کیا۔"      ( ١٨٨٠ء، تاریخ ہندوستان، ١٢:١ ) ٢ - دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا۔ "مصابرت اسی صبر سے ماخوذ ہے، اس کے معنی ہیں دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٢٧١:٢ )

اصل لفظ: صبر
جنس: مؤنث