مصاہرت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آپس میں شادی کے ذریعے تعلق پیدا کرنا۔ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے رشتہ مصاہرت قائم کرلیا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ ، ٤١٥:٢ ) ٢ - عورت سے قربت، نزدیکی تعلق۔ "مصاہرت کی حرمت حرام طور پر مباشرت سے ثابت نہیں ہوتی۔"      ( ١٨٦٦ء، تہذیب الایمان (ترجمہ)، ٤١٦ ) ٣ - خسر بنانا نیز داماد بنانا، خصر اور داماد کا باہمی رشتہ۔ "تعلیم و تربیت تمام تر رام پور میں ہوئی اور یہیں مصاہرت کے تعلق سے توطن پذیر ہوگئے۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو نثر کے ارتقاء میں علماء کا حصہ، ١٤٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم' ہے عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٤ء کو "سیرۃ النبیۖ " میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آپس میں شادی کے ذریعے تعلق پیدا کرنا۔ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے رشتہ مصاہرت قائم کرلیا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ ، ٤١٥:٢ ) ٢ - عورت سے قربت، نزدیکی تعلق۔ "مصاہرت کی حرمت حرام طور پر مباشرت سے ثابت نہیں ہوتی۔"      ( ١٨٦٦ء، تہذیب الایمان (ترجمہ)، ٤١٦ ) ٣ - خسر بنانا نیز داماد بنانا، خصر اور داماد کا باہمی رشتہ۔ "تعلیم و تربیت تمام تر رام پور میں ہوئی اور یہیں مصاہرت کے تعلق سے توطن پذیر ہوگئے۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو نثر کے ارتقاء میں علماء کا حصہ، ١٤٣ )

اصل لفظ: صہر
جنس: مؤنث