معاہدہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ قرارداد جو فریقین کے مابین ہو اور جس کی رو سے ہر فریق کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اقرار کرے، باہمی عہد و پیمان، عہدنامہ۔ "یہ ایک ایسی ریاست ہے جس کی تنظیم معاہدہ کی بنیاد پر رکھی جاتی ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، لاہور، مئی، ٢١ ) ٢ - تحریری عہدنامہ، معاہدہ کی دستاویز۔ "نکاح سے پہلے طرفین میں ایک تحریری معاہدہ ہوا۔"      ( ١٩٨٣ء، خون دل کی کشید، ٢٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٦ء کو "مضامین تہذیب الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ قرارداد جو فریقین کے مابین ہو اور جس کی رو سے ہر فریق کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اقرار کرے، باہمی عہد و پیمان، عہدنامہ۔ "یہ ایک ایسی ریاست ہے جس کی تنظیم معاہدہ کی بنیاد پر رکھی جاتی ہے۔"      ( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، لاہور، مئی، ٢١ ) ٢ - تحریری عہدنامہ، معاہدہ کی دستاویز۔ "نکاح سے پہلے طرفین میں ایک تحریری معاہدہ ہوا۔"      ( ١٩٨٣ء، خون دل کی کشید، ٢٢٤ )

جنس: مذکر