معجزہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وہ حیرت انگیز بات جو صرف نبی سے ہی ظاہر ہو، خرق عادت جو نبی سے صادر ہو۔ "یہ لوگ بجز خدا کے معجزہ و وحی وغیرہ کو نہیں مانتے تھے۔"      ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، مارچ، ٩٣ ) ٢ - عاجز کر دینے والا، وہ کام جو انسانی طاقت سے باہر ہو، قانون قدرت سے بڑھ کر واقعہ، (مجازاً) کرشمہ کرامت وغیرہ۔" "کہانی نے مصنف کو اپنی دانست میں یہ کہہ کر بڑی تسلی دی کہ لفظ اول و آخر معجزہ ہے۔"      ( ١٩٩٨ء، کہانی مجھے لکھتی ہے، ٤٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٩٧ء کو "دیوان ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ حیرت انگیز بات جو صرف نبی سے ہی ظاہر ہو، خرق عادت جو نبی سے صادر ہو۔ "یہ لوگ بجز خدا کے معجزہ و وحی وغیرہ کو نہیں مانتے تھے۔"      ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، مارچ، ٩٣ ) ٢ - عاجز کر دینے والا، وہ کام جو انسانی طاقت سے باہر ہو، قانون قدرت سے بڑھ کر واقعہ، (مجازاً) کرشمہ کرامت وغیرہ۔" "کہانی نے مصنف کو اپنی دانست میں یہ کہہ کر بڑی تسلی دی کہ لفظ اول و آخر معجزہ ہے۔"      ( ١٩٩٨ء، کہانی مجھے لکھتی ہے، ٤٧ )

اصل لفظ: عجز
جنس: مذکر