معشوق

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - عشق کا مفعول، وہ شخص جس پر کوئی فریفتہ ہو، (مجازاً) محبوب، پیارا، دلبر، دلبربا (عاشق کی ضد)۔ "اس نے صفائی اور پاکیزگی کا اتنا خیال رکھا تھا کہ معشوق بھی دیکھ کر بھڑک اٹھے۔"      ( ١٩٩٨ء، افکار، کراچی، مئی، ٥٨ ) ٢ - گھنڈی تکمہ کا حلقہ، کسی جوڑی (نر مادہ) یا دو حصوں والے پرندے کا مادہ حصہ۔  فرقت نصیب وہ ہوں جو باندھوں کم پہ میں یک جا رہیں نہ عاشق و معشوق ڈاب کے      ( ١٨٩٤ء، دیبی پرشاد شحر، سحر سامری، ٨٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "پرت نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عشق کا مفعول، وہ شخص جس پر کوئی فریفتہ ہو، (مجازاً) محبوب، پیارا، دلبر، دلبربا (عاشق کی ضد)۔ "اس نے صفائی اور پاکیزگی کا اتنا خیال رکھا تھا کہ معشوق بھی دیکھ کر بھڑک اٹھے۔"      ( ١٩٩٨ء، افکار، کراچی، مئی، ٥٨ )

اصل لفظ: عشق