معطل

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کام سے خالی، بے شغل، جسے فرصت ہو، بے کار۔ "باطنی حواس اور روحانی قرار کو انہوں نے بالکل معطل اور بے کار چھوڑ دیا ہے۔"      ( ١٩٩١ء، تحقیقی زاویے، ٢٦٣ ) ٢ - ڈھیلا، سست، کاہل۔ (فرہنگ آصفیہ) ٣ - کچھ دنوں کے لیے چھٹا ہوا (کوئی کام وغیرہ) موقوف۔  کہ گھر ہے بے چراغ اس دم تہمارا معطل ہو رہا ہے کام سارا      ( ١٨٥٧ء، مثنوی مصباح المجالس، ٣٧١ ) ٤ - جس سے کام نہ ہو سکے جیسے عضو معطل، نکما۔  معطل صنعف نے افتادگی میں ہم کو کب رکھا قد خم گشتہ کو ناخن بنایا شیر قالی کا      ( ١٨٤٧ء، کلیات منیر، ٥٨:١ ) ٥ - کچھ دنوں کے لیے کام سے علیحدہ، عہدے سے عارضی طور پر ہٹایا ہوا، ایام مقررہ تک بیکار۔ "ان دو افسروں کو جنہوں نے رشوت کی رقم ہضم کی تھی معطل کر دیا۔"      ( ١٩٩٠ء، وفاقی محتسب کی سالانہ رپورٹ، ٢٧١ ) ٦ - علیحدہ، الگ۔  مدتوں آئینہ سال حلقۂ حیرت میں رہا شادی و غم سے معطل غم فرقت میں رہا      ( ١٨٦٨ء، شعلہ حوالہ، ٢٧١:١ ) ٨ - ناکارہ "لازم ہے کہ طلاق دینے والے کی عقل نشے کی سبب معطل ہو گئی ہو اور وہ ہذیان بکنے لگا ہو۔"      ( ١٩٦٧ء، مجموعۂ قوانین اسلام، ٧٥٧:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کام سے خالی، بے شغل، جسے فرصت ہو، بے کار۔ "باطنی حواس اور روحانی قرار کو انہوں نے بالکل معطل اور بے کار چھوڑ دیا ہے۔"      ( ١٩٩١ء، تحقیقی زاویے، ٢٦٣ ) ٥ - کچھ دنوں کے لیے کام سے علیحدہ، عہدے سے عارضی طور پر ہٹایا ہوا، ایام مقررہ تک بیکار۔ "ان دو افسروں کو جنہوں نے رشوت کی رقم ہضم کی تھی معطل کر دیا۔"      ( ١٩٩٠ء، وفاقی محتسب کی سالانہ رپورٹ، ٢٧١ ) ٨ - ناکارہ "لازم ہے کہ طلاق دینے والے کی عقل نشے کی سبب معطل ہو گئی ہو اور وہ ہذیان بکنے لگا ہو۔"      ( ١٩٦٧ء، مجموعۂ قوانین اسلام، ٧٥٧:٢ )

اصل لفظ: عطل