مغرور

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - غرور والا، گھمنڈی، متکبر، خودبیں، خودپسند، شیخی خورا، اترانے والا۔ "اہل طائف دولت اور اقتدار کے نشے میں بے انتہا مغرور تھے۔"      ( ١٩٩٦ء، صحیفہ، لاہور، اپریل تا جون، ٤٥ ) ٢ - [ فقہ ]  مراد مغرور سے وہ شخص ہے جو ایک عورت سے صحبت کرے اوس کی ملک یمین یا ملک نکاح پر اعتماد کر کے پھر وہ عورت اوس سے جنی بعد اوس کے وہ عورت کسی اور کی مملوک نکلی اور اس کو مغرور اس لیے کہتے ہیں کہ بائع نے زید کو دھوکا اور فریب دیا۔ (1867، نورالہدایہ 129:3)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت ہے، اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غرور والا، گھمنڈی، متکبر، خودبیں، خودپسند، شیخی خورا، اترانے والا۔ "اہل طائف دولت اور اقتدار کے نشے میں بے انتہا مغرور تھے۔"      ( ١٩٩٦ء، صحیفہ، لاہور، اپریل تا جون، ٤٥ )

اصل لفظ: غرر