مغل

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - سادہ دل۔ (فرہنگ آصفیہ) ١ - ترکوں کی ایک اعلٰی ذات کا نام، تاتاری، تاتاریوں کا ایک قبیلہ، منگولی (خصوصاً وہ شاخ جس نے برعظیم پاک و ہند پر حکومت کی)۔ "یہاں تک کہ سولھویں صدی میں مغل آئے"      ( ١٩٧٣ء احتشام حسین، اردو ادب کی تنقیدی تاریخ،١٣ ) ٢ - مسلمان (خصوصاً اہل ہنود کے نزدیک)  چوما لیا ادھر پر اسے جب لگا کے گل کہنے لگی مغل کہ یہی ریت ہے مری      ( ١٧١٣، فائز دہلوی، دیوان، ١٩٠ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے، اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے، ١٦٧٨ء کو 'کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ترکوں کی ایک اعلٰی ذات کا نام، تاتاری، تاتاریوں کا ایک قبیلہ، منگولی (خصوصاً وہ شاخ جس نے برعظیم پاک و ہند پر حکومت کی)۔ "یہاں تک کہ سولھویں صدی میں مغل آئے"      ( ١٩٧٣ء احتشام حسین، اردو ادب کی تنقیدی تاریخ،١٣ )