مغموم
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - غمگین، رنجیدہ، آزردہ خاطر، اداس، غم زدہ، فکر مند، پریشان۔ "وہ دل ہی دل میں ضرور مغموم ہوتے ہوں گے۔" ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٩٣ ) ٢ - [ طب ] جس کو زکام ہو۔ (مخزن الجواہر)۔
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٧٤ء کو "مثنوی تصویر جاناں" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غمگین، رنجیدہ، آزردہ خاطر، اداس، غم زدہ، فکر مند، پریشان۔ "وہ دل ہی دل میں ضرور مغموم ہوتے ہوں گے۔" ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٩٣ )
اصل لفظ: غمم