مفت

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بلاقیمت، بلا معاوضہ، بغیر داموں کے، بلاع عوض، پھوکٹ میں۔ "وہ سانپ سے ڈسنے والوں کا مفت علاج کیا کرتا۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٦٥ ) ٢ - بے فائدہ، بے سود، بے مقصد، لاحاصل، خواہ مخواہ، یونہیں، ناحق۔ "مفت میں کمیونسٹ کا ٹھپہ لگے جائے گا کہ یہ انقلابیوں کی باتیں کرتا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، پرانا قالین، ١٤٥ ) ٣ - بلاوجہ، بے مقصد، بے ضرورت۔  مفت بدنام ہوا نام بھی بدنامی میں ہو سکا کوئی ترے عشق میں رسوا بھی کہاں      ( ١٩٣٨ء، مشعل، ٣١ ) ٤ - بے محنت، بلامشقت۔ "پرائی روٹی مفت کیسے کھا سکتی تھیں۔"      ( ١٩٥٨ء، پرستان کی سیر، ٥ ) ٥ - ضائع، اکارت، رائیگاں۔  پابہ زنجیر ایک دیوانہ نظر آتا نہیں حیف ہے اب کے برس کیا مفت جاتی ہے بہار      ( ١٨٤٣ء، دیوان رندہ، ٢٥٨:٢ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بلاقیمت، بلا معاوضہ، بغیر داموں کے، بلاع عوض، پھوکٹ میں۔ "وہ سانپ سے ڈسنے والوں کا مفت علاج کیا کرتا۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٦٥ ) ٢ - بے فائدہ، بے سود، بے مقصد، لاحاصل، خواہ مخواہ، یونہیں، ناحق۔ "مفت میں کمیونسٹ کا ٹھپہ لگے جائے گا کہ یہ انقلابیوں کی باتیں کرتا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، پرانا قالین، ١٤٥ ) ٤ - بے محنت، بلامشقت۔ "پرائی روٹی مفت کیسے کھا سکتی تھیں۔"      ( ١٩٥٨ء، پرستان کی سیر، ٥ )