مفعول

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - فعل کیا گیا، کیا ہوا، کردہ شدہ، جس پر کام کیا جائے۔ "جانکی کی مامتا کے مفعول اس کے محبوب مرد ہیں۔"      ( ١٩٧٣ء، ممتاز شیریں، منٹو نوری نہ ناری، ٩١ ) ١ - [ قواعد ]  وہ اسم جس پر کوئی فعل واقع ہوا ہو، وہ کلمہ جس پر فعل کا اثر ہوا ہو۔ "ان زبانوں کی ترتیب میں پہلے فاعل، پھر مفعول اور آخر میں فعل آتا ہے۔"      ( ١٩٩٨ء، قومی زبان،خ کراچی، مئی، ٣٢ ) ٢ - [ فحش ]  بدفعلی یا اغلام کرانے والا شخص، مابون۔ "ان میں. مفعولوںڈ (مابوناں) کو پرورش کرنے کی نحوست اہل بصیرت اور اہل دانش کو صاف نظر آتی تھی۔"      ( ١٩٦٩ء، تاریخ فیروز شاہی (سید معین الحق) ) ٣ - [ عروض ]  شعر کے وزن کا نام جو ایک بنیادی وزن فاعلین سے ماخوذ ہے۔  مفعول فاعلات کورٹ کرے گا کیا سر گرم کی مشق کر کہ یہ ٹھمری کا دور ہے      ( ١٩٨٢ء، ط ظ، ١٠٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٥ء کو "گلزار عشق دیباچہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فعل کیا گیا، کیا ہوا، کردہ شدہ، جس پر کام کیا جائے۔ "جانکی کی مامتا کے مفعول اس کے محبوب مرد ہیں۔"      ( ١٩٧٣ء، ممتاز شیریں، منٹو نوری نہ ناری، ٩١ ) ١ - [ قواعد ]  وہ اسم جس پر کوئی فعل واقع ہوا ہو، وہ کلمہ جس پر فعل کا اثر ہوا ہو۔ "ان زبانوں کی ترتیب میں پہلے فاعل، پھر مفعول اور آخر میں فعل آتا ہے۔"      ( ١٩٩٨ء، قومی زبان،خ کراچی، مئی، ٣٢ ) ٢ - [ فحش ]  بدفعلی یا اغلام کرانے والا شخص، مابون۔ "ان میں. مفعولوںڈ (مابوناں) کو پرورش کرنے کی نحوست اہل بصیرت اور اہل دانش کو صاف نظر آتی تھی۔"      ( ١٩٦٩ء، تاریخ فیروز شاہی (سید معین الحق) )

اصل لفظ: فعل