مقبوضہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - قبضہ کیا گیا، زیرتصرف یا ہاتھ میں آیا ہوا، فتح کیا ہوا۔ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ممالک مقبوضہ میں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے (محرم ٩ھ میں) محصلین مقرر کر دیے"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٢٠:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'مقبوض' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'مقبوضہ' بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٤ء کو "سیرۃ النبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قبضہ کیا گیا، زیرتصرف یا ہاتھ میں آیا ہوا، فتح کیا ہوا۔ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ممالک مقبوضہ میں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے (محرم ٩ھ میں) محصلین مقرر کر دیے"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٢٠:٢ )

اصل لفظ: مَقْبُوض