مقدار
معنی
١ - برابر، مساوی، یکساں۔ "تم بھی تو ایک سورت ایسی فصیح و بلیغ تین آیت کی مقدار بنا دیکھو۔" ( ١٩٣٢ء، ترجمۂ قرآن، مولانا محمود الحسن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٧ ) ١ - تخمینہ، اندازہ، شمار، تعداد، مجموعہ، وزن، ناپ، گنتی، پیمائش، قدرو قمیت۔ "خون میں شکر کی مقدار بڑھی ہو تو انسولین کی مقدار بھی بڑھا دیتے ہیں۔" ( ١٩٩٩ء، آئیڈیل منافق، ١٥٢ ) ٢ - مقدرت، حیثیت، وقعت۔ اپنے کام کی اہمیت، اسکی مقدار، معیار پر روشنی ڈالنے کا بھی وافر ملکہ تھا۔" ( ١٩٨٥ء، اڑتے خاکے، ٢١٥ ) ٣ - [ ریاضی ] قیمت، قدر۔ "اگر کسی دی ہوئی چھوٹی مثبت مقدارصہ کے جواب میں جو کتنی ہی چھوٹی ہو ایک مثبت مقدارعا اس طرح وجود رکھتی ہو۔" ( ١٩٤٧ء، ملتف متغیر کے تفاعل، ٥٩ ) ٤ - [ ارضیات ] طول، عرض، ملحق، کا مجموعہ، حجم۔ "یہ خطوط صحیح بلندی کو ظاہر نہیں کرتے، نہ ہی بلندی کی مقدار درج ہوتی ہے۔" ( ١٩٦٤ء، عملی جغرافیہ، ٢٨ ) ٥ - جسامت، ڈیل ڈول، مناسبت۔ "یہ تقسیم زیادہ حد تک اختیاری ہے کیونکہ ایک ہی مقدار کے ستارے بھی . اختلاف رکھتے ہیں۔" ( ١٩٤٠ء، علم ہئیت، ٢٣٢ ) ٦ - وقفہ، فاصلہ۔ "مقدار اس کی بارہ دن کی راہ کے برابر ہے۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ١٨٦ ) ٧ - رقم، دولت۔ "جس قدر رقم عمارت کے گرانے اور ڈھلائی ملبہ میں صرف ہو گی اس سے کم مقدار میں نئی عمارت بن جائیگی۔" ( ١٩٣٨ء، البرامکہ، ١٣٣ ) ٩ - گنتی یا پیمائش (مجازاً) قدر و قیمت، مجموعہ، میزان، جوڑ، حاصل۔ "وہ مقدار میں ایسی کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن جتنی بھی ہے وہ ایک عالم جذب و مستی کی پیداوار ہے۔" ( ١٩٦٣ء، شاعری اور شاعری کی تنقید، ١٣٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - برابر، مساوی، یکساں۔ "تم بھی تو ایک سورت ایسی فصیح و بلیغ تین آیت کی مقدار بنا دیکھو۔" ( ١٩٣٢ء، ترجمۂ قرآن، مولانا محمود الحسن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٧ ) ١ - تخمینہ، اندازہ، شمار، تعداد، مجموعہ، وزن، ناپ، گنتی، پیمائش، قدرو قمیت۔ "خون میں شکر کی مقدار بڑھی ہو تو انسولین کی مقدار بھی بڑھا دیتے ہیں۔" ( ١٩٩٩ء، آئیڈیل منافق، ١٥٢ ) ٢ - مقدرت، حیثیت، وقعت۔ اپنے کام کی اہمیت، اسکی مقدار، معیار پر روشنی ڈالنے کا بھی وافر ملکہ تھا۔" ( ١٩٨٥ء، اڑتے خاکے، ٢١٥ ) ٣ - [ ریاضی ] قیمت، قدر۔ "اگر کسی دی ہوئی چھوٹی مثبت مقدارصہ کے جواب میں جو کتنی ہی چھوٹی ہو ایک مثبت مقدارعا اس طرح وجود رکھتی ہو۔" ( ١٩٤٧ء، ملتف متغیر کے تفاعل، ٥٩ ) ٤ - [ ارضیات ] طول، عرض، ملحق، کا مجموعہ، حجم۔ "یہ خطوط صحیح بلندی کو ظاہر نہیں کرتے، نہ ہی بلندی کی مقدار درج ہوتی ہے۔" ( ١٩٦٤ء، عملی جغرافیہ، ٢٨ ) ٥ - جسامت، ڈیل ڈول، مناسبت۔ "یہ تقسیم زیادہ حد تک اختیاری ہے کیونکہ ایک ہی مقدار کے ستارے بھی . اختلاف رکھتے ہیں۔" ( ١٩٤٠ء، علم ہئیت، ٢٣٢ ) ٦ - وقفہ، فاصلہ۔ "مقدار اس کی بارہ دن کی راہ کے برابر ہے۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ١٨٦ ) ٧ - رقم، دولت۔ "جس قدر رقم عمارت کے گرانے اور ڈھلائی ملبہ میں صرف ہو گی اس سے کم مقدار میں نئی عمارت بن جائیگی۔" ( ١٩٣٨ء، البرامکہ، ١٣٣ ) ٩ - گنتی یا پیمائش (مجازاً) قدر و قیمت، مجموعہ، میزان، جوڑ، حاصل۔ "وہ مقدار میں ایسی کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن جتنی بھی ہے وہ ایک عالم جذب و مستی کی پیداوار ہے۔" ( ١٩٦٣ء، شاعری اور شاعری کی تنقید، ١٣٥ )