مقرر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - اقرار کیا گیا، ٹھہرایا ہوا، قرار پایا ہوا، طے شدہ، معین۔ "ان حرفوں کا مشابہ ہونا خود باقاعدہ مقرر مسلم ہے"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، اگست، ٦٤ ) ٢ - مامور، تعینات، متعینہ۔ "وہ اس زمانے میں نئے نئے اسکول ماسٹر مقرر ہوئے تھے"      ( ١٩٨٩ء، آب گم، ٨٢ ) ٣ - ضرور بالضرور، بلاشبہ، یقیناً، بالتحقیق، لاکلام، شرطیہ۔  ہاں مکرر تم اگر کوشش کرو تو نتیجہ ہو مقرر ہتھکڑی      ( ١٩٧٣ء، پرواز عقاب، ٦٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اقرار کیا گیا، ٹھہرایا ہوا، قرار پایا ہوا، طے شدہ، معین۔ "ان حرفوں کا مشابہ ہونا خود باقاعدہ مقرر مسلم ہے"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، اگست، ٦٤ ) ٢ - مامور، تعینات، متعینہ۔ "وہ اس زمانے میں نئے نئے اسکول ماسٹر مقرر ہوئے تھے"      ( ١٩٨٩ء، آب گم، ٨٢ )

اصل لفظ: قرر