مقفی

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - [ ادب ]  ہم قافیہ (نثر یا نظم)، قافیے دار، جس میں قوافی ہوں۔ "مولوی بشیر الدین احمد کی تحریر کی ایک اور خوبی سامنے آتی ہے وہ ہے مقفٰی اور مسجح نثر۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، اگست، ٥٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٢ء کو "مراۃ الغیب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ادب ]  ہم قافیہ (نثر یا نظم)، قافیے دار، جس میں قوافی ہوں۔ "مولوی بشیر الدین احمد کی تحریر کی ایک اور خوبی سامنے آتی ہے وہ ہے مقفٰی اور مسجح نثر۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، اگست، ٥٠ )

اصل لفظ: قوف